سوال
میں ایک ماں ہوں، میرے ٥ بچے ہیں، ٣ لڑکے اور ٢ لڑکیاں، اور میں کام نہیں کرتی۔ میں نے ایک سونے کا ٹکڑا بیچا اور اپنے بچوں کی مدد کی، ہر ایک کو ٣٠٠ دینار دیے، لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں ان کی ضرورت کی وجہ سے۔ کیا میں اس میں گناہگار ہوں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر ان کی کوئی ظاہری ضرورت ہے تو آپ ان میں سے کسی بھی ضرورت مند کی مدد کر سکتے ہیں، بیٹا ہو یا بیٹی، اور آپ اس میں ثواب پائیں گی، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔