سوال
اگر لڑکی نے اپنے ہمسر سے، مثل یا مقررہ مہر پر، بغیر اپنے ولی کی اجازت کے نکاح کیا، تو کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ ان کے نکاح میں برکت نہ دے کیونکہ اس نے اپنے ولی کی رضا کے بغیر نکاح کیا؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: فتویٰ یہ ہے کہ لڑکی کا بغیر ولی کے عقد صحیح نہیں ہے، لہذا اسے ولی کے ساتھ تجدید کرنا ضروری ہے تاکہ یہ صحیح ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔