نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔

بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا

سوال
وضو میں بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
الجواب:
أقول وبالله التوفيق: ہاتھ سے ناک صاف کرنا وضو میں ایک آداب ہے؛ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: «كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ  الْيُمْنَى: لِطُهُورِهِ، وَطَعَامِهِ، وكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى: لِخَلَائِهِ، وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى»، سنن ابی داود 1/55، اور شعب الإيمان 5/77، اور السنن الكبرى للبيهقي 1/113۔ پھر ہاتھ سے ناک صاف کرنا؛ تاکہ آلودگی دور کی جا سکے، اس میں بائیں ہاتھ کا استعمال بہتر ہے؛ کیونکہ ہاتھ سے ناک صاف کرنا: یہ ناک سے ہوا کے ساتھ نکالنا ہے ـ جو کہ ناک میں جمع ہونے والے خشک بلغم کو نکالنا ہے ـ اور ناک شیطان کا ٹھکانا ہے؛ جیسا کہ رسول اللہ  نے فرمایا: «إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ، فَتَوَضَّأَ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثًا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ» صحیح بخاری 3/1199، اور صحیح مسلم 1/212۔ دیکھیں: تبیین الحقائق 1: 6-7، اور مجمع الأنہر 1: 16، اور بدائع الصنائع 1: 23-24، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں