سوال
ایک آدمی فوت ہوگیا اور اس کے پاس ایک عمارت تھی، وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ پہلی منزل اس کے بڑے بیٹے کی ہے اور سب اس بات سے واقف ہیں، لیکن اس نے اس بات کا کوئی شرعی ثبوت نہیں بنایا۔ اب وراثت کی تقسیم کا وقت آگیا ہے اور بھائیوں اور بہنوں میں یہ برابر تقسیم ہونی ہے، کیا پہلی منزل تمام ورثاء کے ورثے میں شامل ہوگی؟ یا یہ بڑے بیٹے کے پاس ہی رہے گی؟ یہ جانتے ہوئے کہ کچھ ورثاء بڑے بیٹے کو دینے پر راضی ہیں جیسا کہ باپ کہتا تھا، جبکہ کچھ ورثاء اس بات کے خلاف ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جائیداد سب کا حق ہے جیسے باقی عمارت، جب تک کہ اس بارے میں کوئی فتویٰ جاری نہ ہو۔ تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: بڑے بیٹے کا پہلی منزل پر کوئی حق نہیں ہے، اور گھر کو تمام ورثاء کے درمیان شرعی تقسیم کے مطابق تقسیم کیا جائے گا؛ کیونکہ والد نے حقیقت میں اسے نہیں دیا، اور ورثاء کے لیے کوئی وصیت نہیں ہے، سوائے اس کے کہ ورثاء اس کے حوالے کرنے پر راضی ہوں، تو یہ ان کی طرف سے ایک عطیہ ہوگا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔