سوال
ایک خاتون جو تہتّر سال کی ہیں، تین سال پہلے درزی کا کام چھوڑ چکی ہیں، لیکن ان کے پاس بیس سال سے زیادہ پرانے کپڑے اور لباس کے ٹکڑے ہیں جو مکمل نہیں ہوئے، اور وہ ان تک نہیں پہنچ سکتی ہیں، تو کیا ان کے لیے ان امانتوں کو صدقہ دینا جائز ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: پہلی بات یہ ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو واپس کی جائیں، اور اگر تم نہیں کر سکتی تو ان کی طرف سے صدقہ دینا ممکن ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔