سوال
میں ایک دکاندار ہوں، حال ہی میں ہمارے پاس ایک چیز آئی ہے جسے الیکٹرانک والیٹس کہتے ہیں، تاکہ لوگوں کو ان کی والیٹس کے ذریعے معاوضہ دیا جا سکے اور وہ میرے پاس آکر مجھے یہ پیسے تبدیل کروائیں، کیا میرے لیے ان پیسوں کی نکاسی پر کمیشن لینا جائز ہے؟ وضاحت: وہ الیکٹرانک والیٹ سے رقم نکالنے پر کمیشن لینا چاہتے ہیں جس میں حکومت نے ان مزدوروں کے لیے رقم جمع کی ہے جو کورونا کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔
جواب
جواب: میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ ایک کرایہ کا معاہدہ ہے جو کام کے لیے ہے، اور اس پر اجرت یعنی کمیشن لینا جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔