سوال
کیا قرآن کے حروف اللہ کے کلام کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور کیا یہ اللہ کے نفسی کلام کی عین نہیں ہیں، یعنی کیا اللہ نے ایسے حروف پیدا کیے ہیں جو اس کے ازلی کلام کی طرف اشارہ کرتے ہیں؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی صفت ہے جو اس پر قائم ہے، اور اللہ تعالیٰ کی صفت کسی اور چیز پر قائم نہیں ہوتی، لہذا اللہ تعالیٰ کا کلام کاغذ اور سیاہی میں قائم نہیں ہوتا، تو مصحف میں الفاظ اور حروف اللہ تعالیٰ کے کلام کی عکاسی کرتے ہیں، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے ازلی نفسی کلام کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور یہ کلام کی صفت کی عین نہیں ہیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے.