سوال
آپ نے ایک سابقہ فتویٰ میں ذکر کیا کہ سخت کام کرنے کی وجہ سے افطار کرنا عذر نہیں ہے، سوائے اس کے کہ اگر کوئی روزہ رکھے اور روزے کے دوران اپنی جان کے ہلاک ہونے کا خوف محسوس کرے تو اس کے لیے افطار کرنا جائز ہے۔ تو پھر اس پر کیا کفارہ لازم ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس پر واجب ہے کہ وہ اپنے روزے کا قضا کرے، سوائے اس صورت کے جب وہ مستقل طور پر عاجز ہو۔ ایسی صورت میں اسے ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دینا ہوگا، اور مسکین کا کھانا دو دینار کے برابر ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔