سوال
اگر شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف ہو، اور دونوں کے درمیان صلح کی کوششیں کی گئی ہوں، لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلے، اور شوہر گھر میں اس طرح کی خاموشی اختیار کرے کہ نہ تو بات چیت ہو اور نہ ہی سلام، اور وہ الگ کمرے میں سوئے، تو کیا ازدواجی زندگی جاری رکھنا جائز ہے یا طلاق کا مطالبہ کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب نہ بنے؟ اگر اصلاح کی کوشش بیوی کی طرف سے ہو اور شوہر انکار کرے، اور بیوی اپنے بچوں کے ساتھ رہنے میں کوئی حرج نہ سمجھتی ہو اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر کی امید رکھتی ہو، تو کیا یہ صحیح ہے، اور سب سے اہم یہ کہ بیوی پر کوئی گناہ نہ ہو؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اور اس کے درمیان اصلاح جاری رکھے یہاں تک کہ اختلاف ختم ہو جائے، اور اس کی یہ کوشش گناہ کو دور کرنے والی ہے، اور اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت سے اس کے ساتھ حسن سلوک کرے، اور اس کے سامنے اپنے آپ کا خاص خیال رکھے، اور بچوں کی بھی اسی طرح دیکھ بھال کرے، تاکہ وہ اپنی تمام ذمہ داریوں کو بہترین طریقے اور صورت میں انجام دے، تاکہ اس کی طرف سے کوئی کمی نہ رہے، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ اس کی مشکلات کو دور فرمائے، اور اللہ بہتر جانتا ہے.