سوال
نماز ابراہیمی میں اس شکل کا کیا حکم ہے: (اللہم صل وسلم علی نبینا محمد صلاة تفرّج بها عنا ما نحن فيه من أمور دیننا ودنیا اور آخرت)؟ کیا اس کا نہ آنا اس کی عدم مشروعیت کا ثبوت ہے جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں، یعنی کہ نماز پڑھنے والا اپنی نماز میں یہ کہے بجائے اس کے کہ جو شکل آئی ہے؟
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ہمیں سنت میں موجود صیغوں کی پابندی کرنی چاہیے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔