"گھر کے خرچ سے زائد رقم جو کہ مہر میں شامل ہے"

سوال
"ایک عورت گھر کے خرچ سے تھوڑی تھوڑی رقم بچاتی ہے، تو وہ رقم بغیر شوہر کے علم کے کافی ہو گئی ہے، کیا وہ اس پیسے کو حلال کر سکتی ہے اور اسے مہر میں شمار کر کے اس سے تصرف کر سکتی ہے؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: جو رقم بیوی کو گھر کے خرچ کے لیے دی جاتی ہے، اس میں شوہر کا حق ہے اور وہ اس کی مالک نہیں ہے؛ کیونکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اسے گھر کے کچھ ضروری خرچوں میں صرف کرے جو شوہر پر واجب ہیں، اس لیے اس میں تصرف کرنا صرف اس کی اجازت سے جائز ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں