سوال
"کیا کسی شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک بچے کو گود لے، اور اپنی بیوی کے لیے ادویات لائے تاکہ وہ اس بچے کو دودھ پلا سکے، اور بیوی کی بہن نے اپنا دودھ منجمد کر کے بچے کو دیا تاکہ وہ بھی اس کا رضاعی بیٹا بن جائے، کیا یہ جائز ہے اور کیا واقعی یہ ان کا رضاعی بیٹا بن جاتا ہے؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر بچہ دودھ پیتا ہے قبل اس کے کہ وہ دو سال کا ہو جائے تو وہ اس کا بیٹا بن جاتا ہے جس نے اس میں سے پیا چاہے اس کا دودھ دوا کے ذریعے نکالا گیا ہو یا کسی اور طریقے سے، اور اگر وہ کسی طریقے سے محفوظ کیا گیا ہو پھر اس عمر میں پیا جائے تو وہ ہر ایک کا بیٹا ہوگا جس نے اس میں سے پیا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔