سوال
"ایک شخص یوٹیوب اور فیس بک کے ذریعے کھیلوں کا مواد پیش کرتا ہے، اور اس سے پندرہ ہزار تک کی رقم کماتا ہے، تو اگر اس کمانے میں کوئی حرمت ہے تو اس کی وضاحت کریں؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ہر قسم کا لہو و لعب حرام ہے، یہ فقہاء کا اصول ہے، اور انٹرنیٹ پر موجود تمام کھیل اس میں شامل ہیں، اس لیے یہ شرعاً جائز نہیں ہیں؛ کیونکہ ان میں نسلوں کا ضیاع، فساد اور باطل خیالات کا پھیلاؤ، اور بے فائدہ وقت کا ضیاع شامل ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔