نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔

"کم سے کم دس دن کے دوران آنے والے خون کا حکم"

سوال
"ایک خاتون کی عمر 52 سال ہے، ان کا حیض دو ماہ آتا ہے پھر دو ماہ رک جاتا ہے، اور اس ماہ خون آٹھ دن آیا اور رک گیا، انہوں نے غسل کیا اور نماز پڑھی، پھر خون دوبارہ آیا، کیا وہ نماز پڑھیں گی یا نہیں؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر حیض کے دس دنوں میں خون آئے تو وہ نماز نہیں پڑھے گی، اور اگر اس کے بعد آئے تو وہ نماز پڑھے گی؛ کیونکہ یہ استحاضہ ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
imam icon

اپنا سوال سمارٹ اسسٹنٹ کو بھیجیں

اگر پچھلے جوابات مناسب نہیں ہیں تو براہ کرم اپنا سوال مفتی کو بھیجیں