سوال
"ایک شخص نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میں اس کی طرف سے صدقہ فطر نکال دوں اور وہ مجھے رقم واپس کر دے گا، لیکن میں عید کی نماز سے پہلے رقم نہیں پہنچا سکا، مگر میں نے ایک خاندان کو بتا دیا کہ ان کے پاس میرے پاس پیسے ہیں، تو کیا یہ اس شخص کے لیے صدقہ فطر کے طور پر کافی ہے؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں نکالنا جائز ہے، اگرچہ اس کا پہلو یہ ہے کہ اسے نماز سے پہلے نکالنا بہتر ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔