نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
"مفروض وہ ہے جو قطعی دلیل سے ثابت ہو، تو قطعی دلیل کا کیا مطلب ہے، اور اس کا ضابطہ کیا ہے؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: قطعی دلیل کا اطلاق اس مضبوط دلیل پر ہوتا ہے جو اپنی ثبوت اور دلالت میں مضبوط ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔