سوال
"میرے شوہر نے غصے میں قسم کھائی کہ میں قضا کے روزے صرف آئندہ رجب میں رکھوں گی، جبکہ میں ہر سال شوال کے مہینے میں روزے رکھنے کی عادی ہوں، اور اب وہ ملک سے باہر ہیں اور انہوں نے مجھے روزے رکھنے کی اجازت دی ہے، تو کیا میرے لیے روزے رکھنا جائز ہے، اور اس کے نتیجے میں کیا ہوگا؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: آپ کے لیے روزہ رکھنا جائز ہے، اور اس پر اپنی قسم کا کفارہ دینا واجب ہے، یعنی دس مسکینوں کو کھانا دینا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔