سوال
"ایک شخص نے شامی کرنسی میں قرض لینے کا ارادہ کیا، اور قرض دینے والے نے اسے سعودی ریال دیا، تو کیا یہ جائز ہے کہ مقروض شامی کرنسی میں ادائیگی کرے؟ اور اگر وہ سعودی ریال میں ادائیگی کرتا ہے تو کیا یہ سود شمار ہوگا، اس اعتبار سے کہ ریال کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: شامی یا سعودی کرنسی میں ادائیگی جائز ہے، اور یہ سود نہیں ہوگا، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔