نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
"ایک عورت آئس لینڈ میں رہتی ہے، وہاں دن ٢١ گھنٹے کا ہوتا ہے اور وہ ذوالحجہ کے روزے کے بارے میں پوچھ رہی ہے، کیا اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ روزے کے گھنٹے مکہ کی طرح شمار کرے، بعض لوگوں کی فتویٰ کے مطابق، حالانکہ اس نے رمضان میں بھی اسی طرح روزہ رکھا؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: یہ ایک ایسا فتویٰ ہے جس کی صحت کی کوئی بنیاد نہیں ہے، یہ انتہائی عجیب ہے، اور یہ فقہاء کی کتابوں میں واضح طور پر موجود اصول کے خلاف ہے، اور اسے اپنے ملک کے وقت کے مطابق صبح کے طلوع سے لے کر سورج غروب ہونے تک روزہ رکھنا چاہیے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔