نوٹ: اس فتویٰ کا ترجمہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیا گیا ہے۔
سوال
"جماع کے بعد طہر کے دوران آنے والے خون کا کیا حکم ہے، اور پھر حیض اس کے وقت سے پہلے آتا ہے؟ اور اس جماع کا کیا حکم ہے؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: ایسا خون حیض نہیں سمجھا جاتا، اس پر حیض کے احکام نہیں بنائے جاتے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔