سوال
"ایک طلاق یافتہ خاتون ہیں اور ان کی ایک بیٹی ہے، ان کا سابق شوہر اپنی بیٹی کے لیے نفقہ دیتا ہے، انہوں نے سنا ہے کہ ان کا سابق شوہر منشیات کی تجارت کرتا ہے، تو کیا ان کی بیٹی کو اپنے والد سے ملنے والا نفقہ حرام ہے؟"
جواب
میں کہتا ہوں اور اللہ کی مدد سے: اگر یہ ثابت ہو جائے کہ باپ کا مال منشیات ہے، تو اس کی کمائی خبیث ہوگی، اور اس کا فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، اور اس کو صدقہ دینا واجب ہے، لہذا اس سے بیٹی پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔